۱-پطرس 3:15-21 URD

15 بلکہ مسِیح کو خُداوند جان کر اپنے دِلوں میں مُقدّس سمجھو اور جو کوئی تُم سے تُمہاری اُمّید کی وجہ دریافت کرے اُس کو جواب دینے کے لِئے ہر وقت مُستعِد رہو مگر حِلم اور خَوف کے ساتھ۔

16 اور نیّت بھی نیک رکھّو تاکہ جِن باتوں میں تُمہاری بدگوئی ہوتی ہے اُن ہی میں وہ لوگ شرمِندہ ہوں جو تُمہارے مسِیحی نیک چال چلن پر لَعن طَعن کرتے ہیں۔

17 کیونکہ اگر خُدا کی یِہی مرضی ہو کہ تُم نیکی کرنے کے سبب سے دُکھ اُٹھاؤ تو یہ بدی کرنے کے سبب سے دُکھ اُٹھانے سے بِہتر ہے۔

18 اِس لِئے کہ مسِیح نے بھی یعنی راست باز نے ناراستوں کے لِئے گُناہوں کے باعِث ایک بار دُکھ اُٹھایا تاکہ ہم کو خُدا کے پاس پُہنچائے ۔ وہ جِسم کے اِعتبار سے تو مارا گیا لیکن رُوح کے اِعتبار سے زِندہ کِیا گیا۔

19 اِسی میں اُس نے جا کر اُن قَیدی رُوحوں میں مُنادی کی۔

20 جو اُس اگلے زمانہ میں نافرمان تِھیں جب خُدا نُوح کے وقت میں تحمُّل کر کے ٹھہرا رہا تھا اور وہ کشتی تیّار ہو رہی تھی جِس پر سوار ہو کر تھوڑے سے آدمی یعنی آٹھ جانیں پانی کے وسِیلہ سے بچِیں۔

21 اور اُسی پانی کا مُشابِہ بھی یعنی بپتِسمہ یِسُوع مسِیح کے جی اُٹھنے کے وسِیلہ سے اب تُمہیں بچاتا ہے ۔ اُس سے جِسم کی نجاست کا دُور کرنا مُراد نہیں بلکہ خالِص نیّت سے خُدا کا طالِب ہونا مُراد ہے۔