۲۔تواریخ 7 UGV

رب کے گھر کی مخصوصیت پر جشن

1 سلیمان کی اِس دعا کے اختتام پر آگ نے آسمان پر سے نازل ہو کر بھسم ہونے والی اور ذبح کی قربانیوں کو بھسم کر دیا۔ ساتھ ساتھ رب کا گھر اُس کے جلال سے یوں معمور ہوا

2 کہ امام اُس میں داخل نہ ہو سکے۔

3 جب اسرائیلیوں نے دیکھا کہ آسمان پر سے آگ نازل ہوئی ہے اور گھر رب کے جلال سے معمور ہو گیا ہے تو وہ منہ کے بل جھک کر رب کی حمد و ثنا کر کے گیت گانے لگے، ”وہ بھلا ہے، اور اُس کی شفقت ابدی ہے۔“

4-5 پھر بادشاہ اور تمام قوم نے رب کے حضور قربانیاں پیش کر کے اللہ کے گھر کو مخصوص کیا۔ اِس سلسلے میں سلیمان نے 22,000 گائےبَیلوں اور 1,20,000 بھیڑبکریوں کو قربان کیا۔

6 امام اور لاوی اپنی اپنی ذمہ داریوں کے مطابق کھڑے تھے۔ لاوی اُن سازوں کو بجا رہے تھے جو داؤد نے رب کی ستائش کرنے کے لئے بنوائے تھے۔ ساتھ ساتھ وہ حمد کا وہ گیت گا رہے تھے جو اُنہوں نے داؤد سے سیکھا تھا، ”اُس کی شفقت ابدی ہے۔“ لاویوں کے مقابل امام تُرم بجا رہے تھے جبکہ باقی تمام لوگ کھڑے تھے۔

7 سلیمان نے صحن کا درمیانی حصہ قربانیاں چڑھانے کے لئے مخصوص کیا۔ وجہ یہ تھی کہ پیتل کی قربان گاہ اِتنی قربانیاں پیش کرنے کے لئے چھوٹی تھی، کیونکہ بھسم ہونے والی قربانیوں اور غلہ کی نذروں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ اِس کے علاوہ سلامتی کی بےشمار قربانیوں کی چربی کو بھی جلانا تھا۔

8-9 عید 14 دنوں تک منائی گئی۔ پہلے ہفتے میں سلیمان اور تمام اسرائیل نے قربان گاہ کی مخصوصیت منائی اور دوسرے ہفتے میں جھونپڑیوں کی عید۔ اِس عید میں بہت زیادہ لوگ شریک ہوئے۔ وہ دُوردراز علاقوں سے یروشلم آئے تھے، شمال میں لبو حمات سے لے کر جنوب میں اُس وادی تک جو مصر کی سرحد تھی۔ آخری دن پوری جماعت نے اختتامی جشن منایا۔

10 یہ ساتویں ماہ کے 23ویں دن وقوع پذیر ہوا۔ اِس کے بعد سلیمان نے اسرائیلیوں کو رُخصت کیا۔ سب شادمان اور دل سے خوش تھے کہ رب نے داؤد، سلیمان اور اپنی قوم اسرائیل پر اِتنی مہربانی کی ہے۔

رب سلیمان سے ہم کلام ہوتا ہے

11 چنانچہ سلیمان نے رب کے گھر اور شاہی محل کو تکمیل تک پہنچایا۔ جو کچھ بھی اُس نے ٹھان لیا تھا وہ پورا ہوا۔

12 ایک رات رب اُس پر ظاہر ہوا اور کہا،”مَیں نے تیری دعا کو سن کر طے کر لیا ہے کہ یہ گھر وہی جگہ ہو جہاں تم مجھے قربانیاں پیش کر سکو۔

13 جب کبھی مَیں بارش کا سلسلہ روکوں، یا فصلیں خراب کرنے کے لئے ٹڈیاں بھیجوں یا اپنی قوم میں وبا پھیلنے دوں

14 تو اگر میری قوم جو میرے نام سے کہلاتی ہے اپنے آپ کو پست کرے اور دعا کر کے میرے چہرے کی طالب ہو اور اپنی شریر راہوں سے باز آئے تو پھر مَیں آسمان پر سے اُس کی سن کر اُس کے گناہوں کو معاف کر دوں گا اور ملک کو بحال کروں گا۔

15 اب سے جب بھی یہاں دعا مانگی جائے تو میری آنکھیں کھلی رہیں گی اور میرے کان اُس پر دھیان دیں گے۔

16 کیونکہ مَیں نے اِس گھر کو چن کر مخصوص و مُقدّس کر رکھا ہے تاکہ میرا نام ہمیشہ تک یہاں قائم رہے۔ میری آنکھیں اور دل ہمیشہ اِس میں حاضر رہیں گے۔

17 جہاں تک تیرا تعلق ہے، اپنے باپ داؤد کی طرح میرے حضور چلتا رہ۔ کیونکہ اگر تُو میرے تمام احکام اور ہدایات کی پیروی کرتا رہے

18 تو مَیں تیری اسرائیل پر حکومت قائم رکھوں گا۔ پھر میرا وہ وعدہ قائم رہے گا جو مَیں نے تیرے باپ داؤد سے عہد باندھ کر کیا تھا کہ اسرائیل پر تیری اولاد کی حکومت ہمیشہ تک قائم رہے گی۔

19 لیکن خبردار! اگر تُو مجھ سے دُور ہو کر میرے دیئے گئے احکام اور ہدایات کو ترک کرے بلکہ دیگر معبودوں کی طرف رجوع کر کے اُن کی خدمت اور پرستش کرے

20 تو مَیں اسرائیل کو جڑ سے اُکھاڑ کر اُس ملک سے نکال دوں گا جو مَیں نے اُن کو دے دیا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ مَیں اِس گھر کو بھی رد کر دوں گا جو مَیں نے اپنے نام کے لئے مخصوص و مُقدّس کر لیا ہے۔ اُس وقت مَیں اسرائیل کو تمام اقوام میں مذاق اور لعن طعن کا نشانہ بنا دوں گا۔

21 اِس شاندار گھر کی بُری حالت دیکھ کر یہاں سے گزرنے والے تمام لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے، اور وہ پوچھیں گے، ’رب نے اِس ملک اور اِس گھر سے ایسا سلوک کیوں کیا؟‘

22 تب لوگ جواب دیں گے، ’اِس لئے کہ گو رب اُن کے باپ دادا کا خدا اُنہیں مصر سے نکال کر یہاں لایا توبھی یہ لوگ اُسے ترک کر کے دیگر معبودوں سے چمٹ گئے ہیں۔ چونکہ وہ اُن کی پرستش اور خدمت کرنے سے باز نہ آئے اِس لئے اُس نے اُنہیں اِس ساری مصیبت میں ڈال دیا ہے‘۔“

ابواب

1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 27 28 29 30 31 32 33 34 35 36