زبور 115 UGV

اللہ ہی کی حمد ہو

1 اے رب، ہماری ہی عزت کی خاطر کام نہ کر بلکہ اِس لئے کہ تیرے نام کو جلال ملے، اِس لئے کہ تُو مہربان اور وفادار خدا ہے۔

2 دیگر اقوام کیوں کہیں، ”اُن کا خدا کہاں ہے؟“

3 ہمارا خدا تو آسمان پر ہے، اور جو جی چاہے کرتا ہے۔

4 اُن کے بُت سونے چاندی کے ہیں، انسان کے ہاتھ نے اُنہیں بنایا ہے۔

5 اُن کے منہ ہیں لیکن وہ بول نہیں سکتے۔ اُن کی آنکھیں ہیں لیکن وہ دیکھ نہیں سکتے۔

6 اُن کے کان ہیں لیکن وہ سن نہیں سکتے، اُن کی ناک ہے لیکن وہ سونگھ نہیں سکتے۔

7 اُن کے ہاتھ ہیں، لیکن وہ چھو نہیں سکتے۔ اُن کے پاؤں ہیں، لیکن وہ چل نہیں سکتے۔ اُن کے گلے سے آواز نہیں نکلتی۔

8 جو بُت بناتے ہیں وہ اُن کی مانند ہو جائیں، جو اُن پر بھروسا رکھتے ہیں وہ اُن جیسے بےحس و حرکت ہو جائیں۔

9 اے اسرائیل، رب پر بھروسا رکھ! وہی تیرا سہارا اور تیری ڈھال ہے۔

10 اے ہارون کے گھرانے، رب پر بھروسا رکھ! وہی تیرا سہارا اور تیری ڈھال ہے۔

11 اے رب کا خوف ماننے والو، رب پر بھروسا رکھو! وہی تمہارا سہارا اور تمہاری ڈھال ہے۔

12 رب نے ہمارا خیال کیا ہے، اور وہ ہمیں برکت دے گا۔ وہ اسرائیل کے گھرانے کو برکت دے گا، وہ ہارون کے گھرانے کو برکت دے گا۔

13 وہ رب کا خوف ماننے والوں کو برکت دے گا، خواہ چھوٹے ہوں یا بڑے۔

14 رب تمہاری تعداد میں اضافہ کرے، تمہاری بھی اور تمہاری اولاد کی بھی۔

15 رب جو آسمان و زمین کا خالق ہے تمہیں برکت سے مالا مال کرے۔

16 آسمان تو رب کا ہے، لیکن زمین کو اُس نے آدم زادوں کو بخش دیا ہے۔

17 اے رب، مُردے تیری ستائش نہیں کرتے، خاموشی کے ملک میں اُترنے والوں میں سے کوئی بھی تیری تمجید نہیں کرتا۔

18 لیکن ہم رب کی ستائش اب سے ابد تک کریں گے۔ رب کی حمد ہو!